نئی دہلی،13؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پارلیمنٹ ہاؤس پر آج سے 17 سال پہلے ہوئے دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے نو افراد کو دونوں ایوانوں میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی قربانی کو یاد کیا گیا۔سرمائی اجلاس کے تیسرے دن جمعرات کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے پر لوک سبھا سمترا مہاجن نے پارلیمنٹ حملے کے شہیدوں کو یاد کیا اور ارکان نے کچھ لمحے خاموشی رکھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ 13 دسمبر 2001 کو ہماری جمہوری نظام پارلیمنٹ ہاؤس کو دہشت گرد حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔پارلیمنٹ احاطے کی حفاظت میں تعینات ہمارے سیکورٹی فورسز نے اس بزدلانہ حملے کو ناکام کر دیا۔انہوں نے کہاکہ دہلی پولیس کے پانچ سیکورٹی اہلکارنانک چند، رامپال، اوم پرکاش، بجیدر سنگھ اور گھنشیام، مرکزی ریزرو پولیس فورس کی کانسٹیبل کملیش کماری اور پارلیمنٹ سیکورٹی سروس کے دو سیکورٹی اسسٹنٹ جگدیش پرساد یادو اور ماتبر سنگھ نیگی اس حملے کا بہادری سے سامنا کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔اس حملے میں ایک اہلکار دیش راج بھی شہید ہو گئے۔انہوں نے کہاکہ آئیے ہم دہشت گردی کے اس لعنت سے نمٹنے کے لئے نئے سرے سے کوشش کرنے کی قرارداد کو دہرائیں اور اپنے وطن کے اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کرنے کے لئے سختی سے دوبارہ اظہار خیال کریں۔راجیہ سبھا نے بھی پارلیمنٹ پر حملے کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ایوان کا اجلاس شروع ہونے پر چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت کے اولین ادارے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے دوران نو افراد کی جان گئی تھی۔ہم ہر طرح کی دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ہم ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ دہشت گردی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چیئرمین نے کہاکہ ان کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے ہم یہ قرارداد لیتے ہیں کہ اپنے ملک کے اتحاد، سالمیت اور خودمختاری کو ہمیشہ برقرار برقرار رکھیں گے اور دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔